ایک انسان کی حیثیت سے،
جسے زندگی کا یہ تحفہ ملا ہے،
آپ
کیا چاہتے ہیں؟
م یں یہ بیان کرنے والا پہلا شخص نہیں ہوں — “جس چیز کی آپ تلاش کر رہے ہیں، وہ آپ کے اندر ہے۔” یہ سب سے قدیم بیان ہے۔ اور اس بیان کی ایک بات یہ ہے کہ جب بھی اسے کہا جاتا ہے، یہ نیا معلوم ہوتا ہے — جیسے آپ نے اسے پہلے کبھی سنا ہی نہ ہو، حالانکہ آپ اسے بار بار سن چکے ہیں۔
جس چیز کی آپ تلاش کر رہے ہیں، وہ آپ کے اندر ہے۔
ا س کا مطلب ہے کہ یہاں کوئی ایسی چیز ہے جسے مجھے جاننے کی ضرورت ہے: کہ میری تکمیل مجھ سے دور نہیں ہے۔
کہ میری طمانیت مجھ سے دور نہیں ہے۔
کہ میری خوشی مجھ سے دور نہیں ہے۔
کہ میری زندگی مجھ سے دور نہیں ہے۔
م یرے اندر وہ کنجی ہے جو میرے تمام تالے کھول دے گی۔ میرے اندر وہ جواب ہے جو میرے تمام سوالوں کا جواب دے گا۔ میری سمجھ، میری وضاحت، میرے اندر ہی ہے۔
دنیا کی بارش سے جس پناہ کی مجھے تلاش ہے، وہ میرے اندر ہے اور مجھ سے دور نہیں ہے۔
اور اس سے بڑی کوئی سچائی نہیں ہے۔
م یں نے اسے دیکھا ہے۔ میں نے پوری دنیا کا سفر کیا ہے۔ میں ایک ملک سے دوسرے ملک گیا ہوں جہاں لوگ ایک ہی زبان نہیں بولتے۔ وہاں کی کرنسی کام نہیں کرتی؛ ان کے گاڑی چلانے کا طریقہ مختلف ہے۔ کاروبار کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔ لوگوں کی شکل و صورت مختلف ہے۔
ف روق کی بات کریں۔ لیکن ان تمام اختلافات کے درمیان، میں نے ایک خوبصورت، سادہ سی یکسانیت دیکھی ہے۔ اور وہ یکسانیت کیا ہے؟ یہ کہ ہم سب اپنے اندر موجود اس خوبصورت چیز کے لیے ترستے ہیں۔